213,538 members
3,298,018 photos
8,143,188 comments
 

NoorWazir's Fotothing

Browse.Upload
and share
your photos
Browse.Explore
our fantastic photo library
Friends.Make Friends
Join our community and have some fun
Photos 11 - 15 of 20

142 views

شیخ الحدیث و التفسیر مولانا نور محمد شہید
محمدنور وزیر

۲۳اگست ۲۰۱۰وہ تاریک دن تھا جس دن شیخ التفسیر ولحدیث حضرت مولانا نورمحمد کو جامع مسجد وزیرستان واناکو ماہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ظہر کی نماز کے بعد ہزاروں کی تعداد لوگوں درس قرآن کے بعد ایک بدبخت نوعمر خودکش حملہ آور چالیس ساتھیوں سمیت شہید کیا ۔ ملک کے دینی حلقوں میں جنوبی وزیرستان کا ذکرہو تو شیخ الحدیث والتفسیرحضرت مولانانورمحمد شہید کا نام اُبھرتا ہے ، جنہوں نے اپنی دینی خدما ت ،جرات وبسالت اور حق گوئی وبے باکی کے باعث دینی حلقو ں میں اپنے لئے قابل قدر مقام پیدا کیا تھا اور مشکلات ومصائب کے جا نگسل دورسے گزرتے ہوئے وہ پورے علاقہ کے مسلمہ دینی و قومی رہنما کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے شیخالحدیث و التفسیرحضرت مولانانورمحمد شہید جنوبی وزیر ستان کے صدر مقام وا نا کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب اور دارالعلوم کے مہتم تھے۔ یہ دارالعلوم وہی ہے جوبھٹو حکومت کے دور میں بلڈوزروں کے ذریعہ وانا کے بازار کو مسمار کر دینے کے بعدبند کر دیا گیا تھا ۔ اور مولانا نور محمد پابند سلاسل ہو گئے تھے ۔
خاندان :
شیخالحدیث و التفسیرحضرت مولانانورمحمد شہید ۱۹۳۶ ءمیں بنوں کے قریب بستی بیزان خیل میں ایک معروف علمی او رروحانی خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا نسب یہ ہے ۔ مولوی نور محمد ابن مولوی نظر محمد ابن مولوی احمد نور آپ وزیر قوم کے احمد زئی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ اور کئی پشتوں سے آپ کے خاندا ن میں دینی علوم او روحانی تزکیہ و تربیت کا سلسلہ چلا آتا ہے ۔آپ کے والد محترم مولانا نظر محمد مرحوم نے ۵۳ءمیں بنوں کے گرم علاقہ سے نقل مکانی کرکے جنوبی وزیرستان کے سردمقام شکی کو اپنا مستقر بنایا اور پھر اس علاقہ میں رہنے والی بیزان خیل قوم نے آپ کو پیش امام ٹہر الیا ۔
تعلیم :
شیخ الحدیث و التفسیرحضرت مولانانورمحمد شہید کی ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں ہوئی اور والد مرحوم سے استفادہ کرنے کے بعد ک۱۹۵۱ء میں مدرسہ قاسم العلوم ملتان میں داخلہ لیا اسی سال مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود بحیثیت صدر مدرس قاسم العلوم میں تشریف لائے تھے ۔ پانچ سال تک مدرسہ قاسم العلوم میں تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا مفتی محمود کی ڈیرہ اسما عیل خان کی سیٹ کیلئے آپ نے 2مہینے کی مسلسل سیاسی مہم چلائی ۔ اور بنوں اور کوہاٹ کی سیٹوں کیلئے آپکی پر جوش تقار یر نے لوگوں میں ایک نیا ولولہ پیدا کیا تھا ۔ مفتی صاحب کے زیر تربیت رہ کر آپ نے اپنی ذہنی وعلمی صلاحیتوں کو مستحکم کیا ۔ اسی دورا ن 53 ءکی تحریک ختم نبوت نے پورے ملک کے مسلمانوں کو قادیانی گر وہ کی اسلام دشمن سر گرمیوں اور عزائم کی طرف متوجہ کیا تو شیخ الحدیث و التفسیرحضرت مولانانورمحمد شہید نے وزیر ستان میں وزیر قوم کو اس تحریک کی ضرورت واہمیت سے آگاہ کرنے کے لئے سرگرم محنت کی اور قاد یانیوں کے دجل وفریب کا پردہ چاک کرکے ان کے خلاف وزیر قوم کو بیدار کیا ۔ آپ کی تعلیمی استعداد مظبوط تھی ہر سال نمایاں کامیابی حاصل کرتے رہے ۔ بلکہ متعد ومواقع پر انعامات حاصل کئے اور دورہ حدیث کے امتحان میں بھی تمام ساتھیوں پر فائق رہے۔ اللہ رب لعزت نے آپ کو حافظہ کی نمایا ں قوت دی تھی مسلم شریف کے سبق کے دوران ایک بار حضرت مولانا مفتی محمود صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے کسی محدث کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس محدث کے حافظے کا یہ عالم تھا کہ اسے اپنی ماں کا دودھ پینا تک یا د تھاتو مولانا نور محمد صاحب نے فور اََ عرض کیا کہ حضرت مجھے بھی نہ صرف اپنی ماں کا دودھ پینا بلکہ اس کا ذائقہ بھی یا د ہے ۔
ذوق خطابت :
۱۹۵۵ءمیں دورہ حدیث مکمل کیا اور سند فراغت حاصل کی ۔ملتان میں امیر شریعت سید عطاءاللہ شاہ بخاری کی زیارت ومجلس سے بھی شاد کام ہوتے رہے ۔ شاہ جی کے ساتھ آپ کی عقیدت ومحبت کا یہ عالم تھا کہ شاہ جی کی علالت کے مواقع پر اکثر کہتے کہ اگر زندگی کاعطیہ کسی کو دینا ممکن ہوتا تو میں اپنی باقی ماندہ زندگی شاہ جی کو عطیہ دے دیتا امیر شریعت کی محبت و عقیدت کے ساتھ ساتھ ان کی خطابات اور اسلوب کلام سے بھی استفادہ کرنے کا موقع ملا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ جنوبی وزیرستان میں شیخ الحدیث والتفسیرحضرت مولانانورمحمد شہید کا شمار ایک کامیاب اور جادو بیان مقرر کی حیثیت سے ہوتا تھا۔
طب و حکمت:
سند فرا غت حاصل کرنے کے بعد آپ نے بوہڑ گیٹ ملتان میں ڈاکٹر فیر وز الدین کے پاس ایک سال کا عرصہ گزارا طب و حکمت کے روز مرہ پیش آنیوالے مسائل کے بارے میں معلومات وو اقفیت حاصل کرنے کا مقصد یہ تھا کہ روز گار کا کوئی مستقل بندو بست کرکے دین کی بے لوث خدمت کی جاسکے۔
وانا کی خطابات:
۶۱۹۵۶ءمیں وانا وزیر ستان میں اپنے والد مرحوم کی معاونت میں درس و تدریس اور خطابت کے فرائض سنھبال لئے یہ وہ دور تھا جب تمام قبائل میں وزیر قبیلہ جہالت و پسماندگی کے حوالہ سے زیادہ معروف تھا ایک خاصی تعدادخانہ بدوشی اور گلہ بانی کے ساتھ زندگی بسر کرتی اور اسلام کے بنیادی ارکان تک سے واقف نہیں تھی اورر سوم و بدعات ، جہالت وعصبیت ، خانہ جنگی اور رقص وسر ود کا ہر طرف دور دورہ تھا چنانچہ آپ کو اُن تمام فتنو ں کا سامنا کرنا پڑا آپ کے مواعظ میں بے راہروی کی مخالفت نمایاں ہوتی تھی جس کی وجہ سے بیشتر طبقے آپ کے مخالف بلکہ دشمن ہوگئے تھے۔ مگر آ پ نے عزم و استقامت کا دامن نہ چھوڑا اور جان ہتھیلی پر رکھ کر ان رکاوٹوں اور مخالفتوں کی پروانہ کرتے ہوئے اپنے مشن پر کاربند رہے اور بالآ خر مخالفت کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ گئے اور ایک وقت وہ بھی آیا جب علاقہ کے لوگوں کی بے پناہ عقیدت اور جذبہ اطاعت کے باعث آپ کو جنوبی وزیرستان کا بے تاج بادشاہ کہا جانے لگاتھا۔
جامع مسجد کی تعمیر :
۱۹۶۱ءمیں آپ نے وانا کی جامع مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا جو آج جنوبی وزیرستان کی عظیم اور خو بصورت مسجد کی حیثیت سے لوگوں کی توجہات کا مرکز ہے ۔ جامع سیاہی مائل سنگ مرمر سے بنائی گئی ہے اور اس کا حسن دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے مسجد کی تعمیر کا کام دس سال میں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی آپ نے دارالعلوم وزیرستان کی بنیاد ڈالی جس میں اس وقت چھ سو سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں درس نظامی کے مروجہ علوم بمع دورہ حدیث شریف کے ساتھ ساتھ حفظ و قرات قرآن کریم کی تعلیم دی جاتی ہے اور ظہر کے بعد ( ایف ۔ اے ) تک مروجہ سکول کا نصاب بمع کمپیوٹر کلاسز پڑھایا جاتا ہے اور مدرسہ البنات کا شعبہ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں دینی اور عصری علوم کی تعلیم کے لئے علیحدہ با پردہ ( ۷) معلمات کام سرانجام دے رہی ہیں بنات کے شعبے میں فی الحال ۱۵۰ لڑکیوں کا دارلاقامہ میں رہنے کا بندوبست کیا گیا ہے ۔ آئندہ اس تعداد میں اضافے کے پروگرام کو خصوصی اہمیت دی جائے گی ۔ اس شعبے میں کل تعداد بنا ت کی تقریباً (۴۵۰) تک ہے اور آئندہ یہ تعداد کافی حد تک بڑھ سکتی ہے ۔ اس وقت ۳۵ ، اساتذہ دارالعلوم میں تدریس و تعلیم کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں دیگر اخراجات کے علاوہ طلبہ کی رہائش ، خوراک ، علاج اور دیگر ضروریات کی کفالت بھی دارالعلوم کے ذمہ ہے اور یہ سب اخراجات کسی مستقل آمدنی کے بغیر صرف اہل خیر مسلمانوں کے صدقات و عطیات سے پورے ہوتے ہیں ۔
اصلاحی خدمات :
شیخ الحدیث و التفسیرمولانا نورمحمد شہید نے علاقہ میں رسوم و بدعات کے علاوہ ناچ گانے ، منشیات اور دیگر اخلاقی جرائم کے سدّ باب کے لئے بھی جراتمندانہ جدوجہد کی وزیر قوم میں اپنی مسلمہ حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے قضاءکا شرعی نظام اس حد تک قائم کیا کہ علماءکو حکم بناکر لوگوں کے تنازعات کے فیصلے شریعت کے مطابق کرتے رہے ۔
بھٹو سے ملاقات:
سابق و زیرا عظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے جنوبی وزیرستان میںشیخ الحدیث و التفسیرمولانا نورمحمد شہید کی مقبولیت اور اثر ورسوخ کو دیکھتے ہوئے آپ کو اپنے دام میں لانے کی کوشش کی ایک باروز یر ستان میں ان سے ملاقات ہوئی ۔ دوسری مرتبہ روالپنڈی میں پرائم منسٹرہا و ¿س میں بلا کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کی دعوت دی اور مختلف قسم کی پیش کشیں کیں مگر آپ نے انہیں ٹال دیا ۔
انتقام کی زدمیں :
اس انکار کے بعد علاقہ میں آپ کے اثر ورسوخ کو تو ڑنے اور مقبولیت کو کم کرنے کے لئے مختلف حر بے استعمال کئے گئے مسعود قبیلہ کے ساتھ وزیر قبیلہ کی روایتی مخالفت اور رقابت کو اُبھارنے کے لئے سازشیں کی گئیں دونوں قبائل کے درمیان نفرت اور اشتعال کواس حد تک بڑ ھایا گیا کہ بات مسلح تصادم تک پہنچ گئی اور گمل روڈ کا حساس تنا زعہ انتہا تک جا پہنچا ۔ اسی فضا میں شیخ الحدیث و التفسیرمولانا نورمحمد شہید کو جون 75 ءمیں وانا چھاونی میں مذاکرات کے بہانے بلا کر گر فتا ر کر لیا اور تین سال کے لئے ڈیرہ اسماعیل خان جیل بھیج دیا گیا علاقہ کے عوام اور قبیلہ نے صورت حال معلوم ہونے پر چھاو نی کا محاصرہ کر کے ۱۲ گھنٹے کے اندر ان کی رہائی کا الٹی مٹیم دیا جس کے اندر انہیں رہا کرنا پڑا ۔ مگر منتقم مزاج حکومت اس شکست کا انتقام یوں لیا کہ ملیشیا اور دیگر سرکاری فورسز کے ذریعے وانا کے بازار پر گولہ باری کی گئی پھر ٹینکوں کی مدد سے فوج کشی کی گئی اور بلڈوزر چلا کر جلے ہوئے مکانات کو سطح زمین کے ساتھ برابر کردیا گیا ۔ حملہ آوروں نے شیخ الحدیث و التفسیرمولانا نورمحمد شہید کے گھر کا سامان لوٹ لیا ، موٹر کار ضبط کر لی ، بلڈوزر کے ذریعہ مکان مسمار کر دیا ، دارالعلوم کے ایک بڑے حصہ کو مسمار کر کے طلبہ کا سامان لوٹ لیا اور دارالعلوم کو سر بمہر کردیا ، جامع مسجد کو فوج نے قبضہ میں لے لیا مسجد کے سر بفلک میناورں پر مورچے بنا لئے اور پورے علاقہ میں کرفیو لگا دیا۔ مولانا نورمحمد کو ان کے دس شاگردوں اور بھائی سمیت گرفتار کر لیا ۔ مولانا موصوف کو جرگہ سے دس سال قید دلوائی ، ان کے بھائی حافظ لعل محمد کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ جبکہ ان کے رفقا شہزادہ سردار غلام رسول اور غازی محمد کو ۴ سال ، سعداﷲ خان ، سراج الدین اور تاج محمد کو دو دو (۲) سال قید کی سزا سنائی گئی اس پر بس نہیں بلکہ اس وقت کے پولیٹیکل ایجنٹ مسٹر عبداﷲ نے مولانا نورمحمد کے جملہ خاندان کو عورتوں اور بچوں سمیت علاقہ بدر کر دیا حتی کہ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں انکی اقامت گاہوں پر بھی پولیس مسلسل چھاپے مارتی رہی اور مولانا نورمحمد کے بڑے بیٹے تاج محمد کو بھی گرفتار کرکے جیل بھیج دیا ۔
مارشل لا ءحکومت :
بھٹو حکومت کے خاتمہ کے بعد علاقہ کے عوام کو یہ توقع ہو گئی کہ مارشل لاءحکومت ان صریح مظالم کی تلافی کرے گی مگر ایسا نہ ہوا اورشیخ الحدیث و التفسیرمولانا نورمحمد شہید اپنی سزا قانون کے مطابق پوری کرکے رہا ہوئے ان کی رہائی کے بعد دارالعلوم اور جامع مسجد ان کے حوالہ کر دیا گیا جہاں آپ پورے وقار اور شان و شوکت کے ساتھ دینی و علمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے شیخ الحدیث و التفسیرمولانا نورمحمد شہید کی اسارت کے دوران ان کے ایک اور بھائی مولوی نیاز محمد کو بھی حکومت نے مفرور قرار دے دیا اور مجبوراً انہوں نے پہاڑوں میں پناہ لی ۔ پولیس نے متعدد بار انکی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے مگر کامیاب نہ ہو سکے مولانا موصوف کی رہائی کے بعدوہ بھی وانا میںآگئے اور ان کے خلاف قائم مقدمات واپس لے لئے گئے ۔ آج مصائب وآلام کے بادل چھٹ چکے ہیں اور تمام سازشیں تار عنکبوت کی طرح ہوا میں بکھر چکی ہیں مگر مولانا نورمحمد اور ان کا خاندان پوری عزت و وقار کے ساتھ علاقہ کے عوام کی دینی و قومی رہنمائی میں مصروف ہے اور تاریخ نے ایک بار پھر حقیقت کو دنیا کے سامنے آشکارہ کرد یا ہے ۔ سچائی کو اگر عزم واستقامت کا ساتھ نصیب ہو جائے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست دینے میں کامیاب نہیں ہو سکتی اور حق بہر حال غالب آکر رہتا ہے ۔ ۱۹۹۷ءمیں جب قبائلی عوام کو ووٹ کا حق ملا تو جنوبی وزیرستان ایجنسی سے احمدزئی وزیر قبیلہ سے تعلق رکھنے والے آپ پہلے شخص تھے جس نے قومی اسمبلی کی سیٹ بھاری اکثریت سے جیتی ۔ اور اسمبلی میں قبائلی ممبران کی مشہور خاموشی کو توڑتے ہوئے متحرک رہ کر فعال کردار ادا کیا اور ہر موقع پراسلامی اقدار اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور آخر کار آپ کی مساعی سے قومی اسمبلی سے شریعت بل پاس ہوا
آپ کی تصانیف:
۔ ”علوم الانیباءاور تسخیر کائنات ”موضوع کے لحاظ سے ایک نئی تحقیقی کاوش ہے اور اس کتاب میںا مت مسلمہ کے لئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جدید علوم سے استفادہ کیلئے نئے زاویوں کا تعین کیا گیا ہے ۔
۔” ایضاح المقال فی رو یت الھلال “ یہ بھی آپ کی حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فقہی نقطہ نگاہ سے ایک لاجواب تصنیف ہے جس میں رمضان اور عید کا چاند نظر آنے ، شہادت لینے اور اس بارے میں حکم کرنے کے شرعی اختیارات کو زیر بحث لایا گیا۔
۔ ” جہاد افغانستان “ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا نورمحمدشہید جنوبی وزیرستان کی مرکزی جامع مسجد اور دارالعلوم میں تعلیمی و دینی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ افغانستان کے جہاد آزادی کے ایک بڑے معاون اور مددگار کی حیثیت سے بھی مصروف ِ جہد وعمل تھے اورروس جیسی عظیم قوت کے مقابلہ میں بے سروسامانی کے باوجود جہاد جاری رکھنے والے افغان مجاہدین کی امدد و حمایت کیلئے نہ صرف سرگرم تھے بلکہ اس اہم دینی فریضہ کی ہروقت ادائیگی کیلئے وزیرستان اور پاکستان کے دیگر دینی و عوامی حلقوں کو بھی دعوت دے رہے تھے۔ کتاب ” جہاد افغانستان “ ان کے اسی جذبہ صادقہ کی آئینہ دار ہے ۔
سے ” پیش آمدہ نئے مسائلکی فقہی تحقیق “ یہ کتاب تحقیق کے لحاظ انشاءاﷲ لا جواب رہے گی ۔ اس میں درپیش جدید کاروباری معاملات اور مسائل کے ٹھوس دلائل کی روشنی میں حل پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہر عالم اور مفتی کیلئے انشاءاﷲ یہ ایک گراں قدر تحفہ ثابت ہوگا ۔
۔ ” اسلامی انقلاب اور جہاد اسلام “ شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا نورمحمد شہید العالیہ کی نئی تالیف ” اسلامی انقلاب اور جہاد اسلام “ کا انداز اگر چہ سابقہ تصنیف سے مختلف ہے ، مگر موضوع اور سیاق و سباق کے حوالے سے اسی سلسلہ کی اہم کڑی ہے ۔ یوں تو کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس کے نام سے ہی بخوبی لگایا جا سکتا ہے مگر اسے پڑھنے کے بعد ایسامحسو س ہوتا ہے کہ نبی کریم نے اپنی پوری زندگی جہاد فی سبیل اﷲ میں گزاری ہے ۔ دورِ حاضر میں امت مسلمہ کو بالعموم اور مجاہدین کو بالخصوص درپیش چیلنجوں سے عہدہ برآہونے کیلئے انشاءاﷲ ! یہ تصنیف مینارہ نور اور اسلامی انقلاب کی منزل کے حصول میں مہمیز ثابت ہوگی ۔ آخر میں ہم اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں دعاگو ہیں کہ خداوند ذوالجلال مولانا نورمحمد کی ان خدمات جلیلہ کو قبولیت کے ساتھ سرفراز فرمائیں اور اسی جذبہ کے ساتھ انکے پسمانگان کو دینی و قومی خدمات کو جاری رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائیں ۔
Friends
More latest photos

FT2